سال بھر پہلے کی بات ہئ ایک آواز نے اسکے کانوں میں رس گھول دیا، مبارک ہو بیٹی ہوئی ہے
اسوقت کی کیفیت کو نہ الفاظ بیان کر سکتے ہیں، نہ کوئی عمل، اسنے نے اسے دیکھا، گود میں لیا، آنکھیں کھولے پٹپٹاتے ہوئے گھور رہی تھی کہاں اگئی میں ہا ہا ہا، گود میں لے کر غور سے دیکھا، 10 انگلیاں ہاتھ میں 10 پیر میں
وہ بالکل کامل، بہت خوبصورت تھی، اور مستقبل کے لئے لامتناہی امکانات اسکی آنکھوں کے سامنے روشن ہوگئے، چند لمحے وہ چند لمحے وہ کہیں اور تھا، اسکے ساتھ کھیلنے سے لے کر اسکول جانے تک، اسکی شادی سے لے کر اسکی اولاد گود میں پالنے تک کا سفر چند لمحات میں سر کر چکا تھا، اسکی آنکھیں چمک رہیں تھی شاید، بس وہ یہ بھول گیا تھا کہ اسکے اپنی بیٹی کے ساتھ دیکھے گئے خواب پورے تب ہی ہو سکتے ہیں جب اسکی شادی کامیاب ٹہرے۔
عموما تعلقات یک دم ختم نہیں ہوتے، یہ خود کش بمبار کی طرح یک دم نہیں پھٹتے ، بلکہ تعلقات آہستہ آہستہ سرد مہری کا روپ اختیار کرتے اپنے انجام کی جانب بڑھتے ہیں، اسے ہمیشہ لگا کہ چیزیں بہتر ہوسکتیں ہیں، لیکن وہ نہیں جانتا تھا کہ آتش فشاں اندر ہی اندر ابل رہا ہے اور ابھی کچھ ہی دیر میں وہ اپنی بیٹی کہ جو ابھی ڈائپر اور مائع غزا پر تھی اس سے محروم ہونے والا ہے، اسکی پہلی سالگرہ سے پہلے اسے کھونے والا ہے، کھیلنا اور اسکول جانا تو دور کی بات وہ اسکا کیک کاٹنے تک سے محروم ہونے والا ہے۔ خانگی اختلافات اسے صرف اسکی شریک حیات سے نہیں اسکی بیٹی سے بھی دور کرنے والے ہیں۔
پھر وہ دن آگیا، لوگوں کو شاید بھیانک سپنے آتے ہیں اسکی زندگی میں بھیانک دن اگیا، اسکی اہلیہ اپنی بیٹی کو لے کر رخصت ہوگئی، ایک شوہر ہونے اور ایک باپ ہونے میں بڑا فرق ہوتا ہے اس بات کو وہ تو پہلے سے جانتا تھا لیکن شاید کوئی اور نہیں۔
اصل میں دنیا کے بہرے کانوں نے اس تلخ حقیقت کو شاید کبھی نہیں سمجھا نہ سمجھ سکے شاید ، ماں کی ممتا پر نہ کسی کو شک ہے نہ سوال لیکن باپ کی شفقت؟ اس شفقت کا اظہار نہ کر پانا؟ اس شفقت کے اظہار سے محروم ہوجانا اس دکھ کو محسوس کرنے کا خیال ابھی دنیا کو نہیں آیا
اس لئے اسے چاہیئے کہ وہ اپنے اس تحفے کی یادوں کو دل میں بسائے سزا بھگتے کہ یہی اس کے کئے کا پھل ہے
اسوقت کی کیفیت کو نہ الفاظ بیان کر سکتے ہیں، نہ کوئی عمل، اسنے نے اسے دیکھا، گود میں لیا، آنکھیں کھولے پٹپٹاتے ہوئے گھور رہی تھی کہاں اگئی میں ہا ہا ہا، گود میں لے کر غور سے دیکھا، 10 انگلیاں ہاتھ میں 10 پیر میں
وہ بالکل کامل، بہت خوبصورت تھی، اور مستقبل کے لئے لامتناہی امکانات اسکی آنکھوں کے سامنے روشن ہوگئے، چند لمحے وہ چند لمحے وہ کہیں اور تھا، اسکے ساتھ کھیلنے سے لے کر اسکول جانے تک، اسکی شادی سے لے کر اسکی اولاد گود میں پالنے تک کا سفر چند لمحات میں سر کر چکا تھا، اسکی آنکھیں چمک رہیں تھی شاید، بس وہ یہ بھول گیا تھا کہ اسکے اپنی بیٹی کے ساتھ دیکھے گئے خواب پورے تب ہی ہو سکتے ہیں جب اسکی شادی کامیاب ٹہرے۔
عموما تعلقات یک دم ختم نہیں ہوتے، یہ خود کش بمبار کی طرح یک دم نہیں پھٹتے ، بلکہ تعلقات آہستہ آہستہ سرد مہری کا روپ اختیار کرتے اپنے انجام کی جانب بڑھتے ہیں، اسے ہمیشہ لگا کہ چیزیں بہتر ہوسکتیں ہیں، لیکن وہ نہیں جانتا تھا کہ آتش فشاں اندر ہی اندر ابل رہا ہے اور ابھی کچھ ہی دیر میں وہ اپنی بیٹی کہ جو ابھی ڈائپر اور مائع غزا پر تھی اس سے محروم ہونے والا ہے، اسکی پہلی سالگرہ سے پہلے اسے کھونے والا ہے، کھیلنا اور اسکول جانا تو دور کی بات وہ اسکا کیک کاٹنے تک سے محروم ہونے والا ہے۔ خانگی اختلافات اسے صرف اسکی شریک حیات سے نہیں اسکی بیٹی سے بھی دور کرنے والے ہیں۔
پھر وہ دن آگیا، لوگوں کو شاید بھیانک سپنے آتے ہیں اسکی زندگی میں بھیانک دن اگیا، اسکی اہلیہ اپنی بیٹی کو لے کر رخصت ہوگئی، ایک شوہر ہونے اور ایک باپ ہونے میں بڑا فرق ہوتا ہے اس بات کو وہ تو پہلے سے جانتا تھا لیکن شاید کوئی اور نہیں۔
اصل میں دنیا کے بہرے کانوں نے اس تلخ حقیقت کو شاید کبھی نہیں سمجھا نہ سمجھ سکے شاید ، ماں کی ممتا پر نہ کسی کو شک ہے نہ سوال لیکن باپ کی شفقت؟ اس شفقت کا اظہار نہ کر پانا؟ اس شفقت کے اظہار سے محروم ہوجانا اس دکھ کو محسوس کرنے کا خیال ابھی دنیا کو نہیں آیا
اس لئے اسے چاہیئے کہ وہ اپنے اس تحفے کی یادوں کو دل میں بسائے سزا بھگتے کہ یہی اس کے کئے کا پھل ہے
No comments:
Post a Comment